25 جولائی 2014 - 21:17
کویت میں مقیم ہند و پاک کمیونٹی کا عالم یوم القدس کے موقع پر اجتماع+ تصاویر

کویت کے علاقے حساوی میں یوم القدس کی مناسبت سے انجمن پیروان ولایت کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام میں پاکستان کے معروف عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین سید جواد نقوی کے خطاب کو ملٹی میڈیا کے ذریعے نشر کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کویت میں مقیم ہند و پاک کمیونٹی نے بھی دنیا بھر کے زندہ دل افراد کی طرح رہبر کبیر انقلاب حضرت امام خمینی(رہ) کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیل خبیث کے خلاف اور ملت مظلوم فلسطین کی حمایت میں ایک اجتماع کا انعقاد کیا۔
کویت کے علاقے حساوی میں یوم القدس کی مناسبت سے انجمن پیروان ولایت کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام میں پاکستان کے معروف عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین سید جواد نقوی کے خطاب کو ملٹی میڈیا کے ذریعے نشر کیا گیا۔
اس پروگرام میں ملٹی میڈیا کے ذریعے خطاب کرتے ہویے علامہ سید جواد نقوی نے مسئلہ فلسطین پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لوگ مسئلہ فلسطین سے لاتعلقی اختیار کر کے خود کو دیندار سمجھتے ہیں جبکہ مسئلہ فلسطین اس وقت اس عنوان سے دین کا حصہ ہے چونکہ یہ قوم اس وقت استعماری طاقتوں کے ہاتھوں مظلوم واقع ہوئی ہے اور دین کے بانی رسول اسلام (ص) کا فرمان ہے کہ مظلوم کے حامی بنے رہنا نہ بھائی کے حامی۔
انہوں نے پیغمبر اکرم کے اس فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عصر جاہلیت کا یہ نعرہ تھا کہ اپنے بھائی کی حمایت کرو اپنے قوم و قبیلے کی حمایت کرو اور کسی سے مطلب نہیں لیکن رسول اسلام نے عصر جاہلیت کے اس نظریے کو بدلتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جو دوسرے مسلمان کا درد رکھتا ہو،مسلمان وہ ہے جو مظلوم مسلمان کی حمایت کرتا ہو۔
انہوں نے پاکستان  کی مثال دیتے ہوئے کہا  کہ جب کوئٹہ  میں  ہمارے عزیزان جنازے رکھ  کر بیٹھے ہوئے تھے اور انکی حمایت کیلئے پورے پاکستان  سے  مومنین مرد عورت بوڑھے جوان بچے  انکی  سڑکوں  پر  آکر بیٹھے تو  وہ ورثائے شہداء  جو دکھیا تھے سوگوار  تھے  ان کے  حوصلے کتنے بلند  ہوئے تھے ان کی عورتوں  میں  حوصلہ  و دلیری پیدا ہوئی البتہ  بعض  سازش  کار  آئے کہ ہمارے معاہدے ہو گئے ہیں مذاکرات کامیاب  ہو گئے ہیں   اور جنازے دفن  کرنا ہیں  تو  ان  خواتین نے اپنے بیٹوں  کے جنازے دفن کرنے کی اجازت نہیں دی کہ یہ ہمارے عزیز ہیں ہم انکو دفن  نہیں کرنے دینگے جب تک ہمیں  حق  نہیں مل جاتا اسقدر شہداء کے  وارثوں  کے حوصلے بلند ہوتے ہیں جب ایک آدمی بھی دنیا کے کسی خطے میں جمع ہوکر ان کی آواز میں آواز ملاتا ہے۔
علامہ جواد نقوی نے یوم القدس سے متعلق امام خمینی(رہ) کے فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: امام  خمینی(رہ) نے  ماہ رمضان کے آخری  جمعے   کو روز قدس  قرار دیا روز قدس  درحقیقیت فتح مبین ہے اگر مسلمان  اس دن کو قائم کرلیں اور برپا کرلیں  اور اپنا فریضہ سمجھیں تو یہ مسلمانوں  کو ذلت سے نکالنے کیلئے آغاز ہے۔چونکہ صیہونی ریاست  اصل فساد کی جڑ ہے  اور اسی کیلئے تکفیری ریاست بھی بن رہی ہے۔اسی کیلئے  مسلمان  ممالک  کو توڑنے کا بھی نقشہ بنایا  جا رہا ہے۔ آج  روز قدس کیلئے  بات کرنا  پاکستان  کے دفاع کیلئے  بات کرنا ہے امام خمینی  کی بصیرت چاہیئے۔
انہوں نے مزید کہا: امام  خمینی(رہ)  جیسی  شخصیت  اور وہ درد مند  انسان ہی  یہ  سمجھ سکتا ہے  کہ مسلمانوں کی بد بختی  کی اصل جڑ یہ صیہونی ریاست ہے ۔اسکے لئے امریکہ جیسے ملعون  کو اگر پاکستان توڑنا بھی پڑا تو وہ اسے  بھی توڑ دیگا۔لہذا تمام مسلمانوں  کا فریضہ بنتا ہے  کہ اس ناپاک  جرثومہ  کو صف ہستی  سے مٹانے کیلئے قیام   کریںاور اٹھ  کر کھڑے ہوں  اور مظلوموں کی آواز میں آواز ملائیں۔روز قدس  روزہ داروں کی حقیقیت بھی ثابت کرتا ہے ۔روز قدس  روزے  کا فلسفہ  بھی  بتاتا ہے ۔روز قدس  بھوک و پیاس  کے اثرات  انسان کو بتاتا ہے  اگر یہ فاقہ نہیں روزہ  تھا پھر روزے نے اپنا اثر بھی کیا ہے روزے  کا ایک اثر یہ ہے  کہ انسان  کے اندر ایک احساس پیدا ہو ایک حس پیدا  ہو ۔روزے  کا  ایک  کام انسان  کو عادتوں سے آزاد کرانا ہےاور غلامی  کی زنجیروں  سے  آزاد  کرتا ہے  روزہ غلاموں  کی آزادی کا ہے کہ اگر تم  آزاد ہوئے ہو  تو قبلہ کی آزادی کیلئے آواز اٹھاوگے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آزادئی  قبلہ و فلسطین  اور آزادئی مسلمین  کی آواز گلے  سے نہیں نکلتی  تو  اسکا مطلب ہے  یہ فاقہ  تھا روزہ نہیں تھا۔ شیعوں  کو معلوم ہونا چاہیئے کہ  جو فتنہ  دشمن بناتا ہے شیعہ  اسکا شکار ضرور ہوتا ہے۔ یہ مت سوچو  کہ یہ فتنہ  فلاں شہر  میں ہے فلاں ملک میں ہے۔جو شیعہ  کو یہ کہتا ہے  کہ فلسطین میں شیعہ  نہیں ہے ہم انکی کس  بات کی حمایت نہیں کرتے۔ یقین جان لیں  وہ خناس ہے۔رسول(ص)  و آئمہ  نے  کس  بات کیلئے کہا ۔امام خمینی  نے کس  بات کیلئے کہا  کیا انکو نہیں معلوم تھا  کہ فلسطین میں  کون ہے کون نہیں ہے شیعہ امامت کیلئے ہے ۔بقول  علامہ  اقبال

کرسکتے تھے  جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ  اپنے زمانے  کے ہیں  پیرو

انہوں نے کہا  کہ تشیع کو   پورے  عالم  کی قیادت کرنی ہے دنیائے اسلام  کی قیادت کرنی ہے۔قدس و کربلا و شام  ہر میدان میں شیعہ  نے قیادت کرنی ہے۔شیعہ  بیداری  کا علمبردار ہے۔ساری دنیا سوئی رہے لیکن  شیعہ  میدان کے اندر رہیگا۔یہ اعزاز ہے  آپکا۔۔قدس ریلیوں  کے اندر  آنا  اور ایک صحافی  کا یہ کہنا  کہ میرے لیئے بہت بڑی بات ہے کہ فلسطین  سنیون کا ہے  اور حمایت اسکی فقط شیعہ کرتے ہیں۔ایسا ہی ہوگا ہر جگہ ایسا ہی ہوگا جہاں پر بھی کوئی مظلوم  کوئی مسلمان  ظلم  کا شکار ہوگا  وہاں پر شیعہ ہی نکل  کر  میدان میں آکر اس کی حمایت کریگا۔جب تک  ایک شیعہ دنیا  میں رہتا ہے قدس  زندہ رہیگا۔اور قدس  آزاد ہوگا  انشاء اللہ  اور یہ صیہونی جرثومہ  نیست و نابود ہوگا ۔عزاداری  ایک  عہد  ہے  اور اس عہد  کے نبھانے  کا ایک دن ایک فرصت  جمعۃ الوداع  یوم القدس ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲